ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / نندوربار فساد معاملے میں پولیس پر یکطرفہ کارروائی کا الزام، 28 ملزمین کی گرفتاری

نندوربار فساد معاملے میں پولیس پر یکطرفہ کارروائی کا الزام، 28 ملزمین کی گرفتاری

Sat, 08 Apr 2023 13:58:36    S.O. News Service

نندوربار ،8/اپریل (ایس او نیوز/ایجنسی)نندوربار کے مہاراشٹر جیم سے متصل بیل بازار علاقے میں  فساد برپا کرنے اور شہر کا پر امن ماحول خراب کرنے کی پاداش میں پولیس نے۲۸؍افراد کو اسی رات حراست میں لیاتھا۔دوسرے دن ۶؍اپریل کو مشتبہ۲۲؍ ملزمین کو عدالت میں حاضر کیا گیا۔  اس معاملے میں پولیس پر یک طرفہ کارروائی کا الزام لگایا گیا۔ عدالت میں دفاعی وکلاء کی جانب سے پولیس کارروائی پر سوالات قائم کئے گئے اور عدالت سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ پولیس سے جواب طلب کرے۔

 تفصیلات کے مطابق ایک ہی گھر کے ۸؍مشتبہ ملزمین کی پیروی کرنے والے  ایڈو کیٹ اظہر پٹھان اور ایڈوکیٹ پرویز کاغذی نے مقامی کورٹ میں سماعت کے دوران پولیس پر جانبدارانہ کارروائی کا الزام عائد کیا اور اس ضمن میں مضبوط دلائل پیش کئے ہیں۔         ایڈوکیٹ پرویز کاغذی نے عدالت میں معزز جج کو بتایا کہ  فساد کی نصف شب پولیس ایک گھر کا دروازہ توڑ کر اندر داخل ہوئی  اور ۸؍مکینوں کو بے دردی سےپکڑ کر پولیس اسٹیشن تک پیٹتے ہوئے لے گئی ۔ اتنا ہی نہیں انہیں پولیس اسٹیشن میں بھی زدوکوب کیا گیا۔ایڈوکیٹ کاغذی نے عدالت کو پولیس کی اس ظالمانہ کارروائی سے واقف کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہی خاندان کے ان۸؍ ملزمین کو پولیس نے اس سے پہلے بھی ایک معاملے میں بے تحاشہ پیٹا تھا ۔ پولیس کی  اس ظلم و زیادتی کے خلاف ان ملزمین نے اورنگ آباد ہائی کورٹ میں عرضداشت  داخل کی ہے۔

 ایڈوکیٹ کاغذی نے الزام لگایا کہ عدالت میں عرضداشت داخل کئے جانے کا بدلہ پولیس نے فساد کی آڑ میں کارروائی کے نام پر لیا ہے ۔ معزز جج کو ملزمین نے  بے دردی سے پیٹے جانے کی وجہ سے ہونے والے  نشانات  اور زخم دکھائے۔ جسم پر بری طرح سے نشانات دیکھنے کے بعد عدالت نے پولیس کو ان۸؍ملزمین کی میڈیکل جانچ کرکے دوبارہ سے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا ہے ۔

 ایڈوکیٹ پرویز کاغذی نےسماعت کے دوران یہ بھی کہا کہ پولیس نے اپنی شکایت  میں لکھا ہے کہ دوگروپ میں زبردست پتھراؤ اور شیشے کی بوتلیں پھینکیں گئیں ۔پولیس کی اس فلمی انداز میں لکھی گئی اسکرپٹ  اور تصاویر جوں کی توں میڈیا نے نشر کردیں۔لیکن فساد برپا کرنے کے پاداش میں پولیس نے ڈیڑھ سو افراد پر معاملہ درج کیا جن میں سے۵۹؍کی شناخت ہونے پر ان کے خلاف ایف آئی آر بھی درج کی گئی ہے۔لیکن پولیس نے بروقت کارروائی کا ڈھنڈورا پیٹتے ہوئے اور اپنی واہ واہی حاصل کرنے کے لئے  آناً فاناً میں اسی رات۲۸؍ مشتبہ ملزمین کو حراست میں لیا۔کاغذی نے پولیس کی اس کارروائی پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ فساد برپا کرنے کے نام پر پولیس نے۲۸؍مشتبہ ملزمین کو گرفتار کیا ہے ان میں سے۲۷؍افراد ایک ہی سماج سے تعلق رکھتے ہیں۔دوسرے سماج کے صرف ۳؍ خاطیوں پر ایف آئی آر کی گئی جس میں سے ایک کو گرفتار کیا گیا ہے بقیہ دو فرار ہیں۔

         ایڈوکیٹ اظہر پٹھان نے عدالت کو بتایا کہ   پولیس نے ایف آئی آر میں جس معاملہ کی نشاندہی کرتے ہوئے فساد رونما ہونے کا ذکر کیا ہے وہ معاملہ  سات ماہ  پہلے کا ہے۔حقیقت میں متذکرہ علاقے میں ایک غیر قانونی شراب کا اڈا ہے یہاں چند افراد میں مار پیٹ ہوئی اس کے بعد شراب کے اڈے پر ہونے والی  مارپیٹ نے فساد کی شکل اختیار کرلی۔ایڈوکیٹ اظہار پٹھان نے کہا کہ درحقیقت پولیس نے خود کی اسکرپٹ تیار کرکے اور میڈیا میں من و عن  شائع کرکے اپنی جانبدارانہ کارروائی پر پردہ ڈالنے اور خاطیوں کو بچانے  اور بے قصوروں کو پھنسانے کی کوشش کی ہے ۔

 معزز جج نے  فریقین کی باتیں سننے کے بعد بقیہ مشتبہ ملزمین کو۹؍اپریل تک پولیس کی تحویل میں رکھنے کا حکم دیا ہے۔ایڈوکیٹ پرویز کاغذی اور ایڈوکیٹ اظہار پٹھان کے دلائل سننے کے بعد کہ متاثرہ علاقے میں اتنی بڑی مقدار میں شراب کی بوتلیں پتھر کہا سے آئے۔ایک ہی سماج کے۲۷؍افراد اور ایک ہی خاندان سے ۸؍ افراد کو فساد، برپا کرنے کے نام پر گرفتار کرکے پولیس کیا ثابت کرنا چاہتی ہے۔بقیہ خاطی پولیس کے شکنجے سے ہنوز اب تک دور کیوں ہے ؟ یہ سوالات اور دلیلیں سننے کے بعد دونوں ہی وکلاء نے کہا کہ انہیں  یقین ہے کہ عدالت پولیس سےضرور جواب طلب کرے گا۔ پولیس کی اس کارروائی کے متعلق شہر میں جتنے منہ اتنی باتیں کہی اور سنی جارہی ہے۔ لوگوں کا بھی الزام ہے کہ یہ کارروائی یک طرفہ ہے اور اس پر ناراضگی کا اظہار کیا جارہا ہے۔


Share: